Friday, 23 April 2021

اس نے تو بس ملنا چھوڑا

 اُس نے تو بس ملنا چھوڑا

لوگوں نے پھر ککھ ناچھوڑا

ملنا جُلنا مسئلہ تھا

مسئلے میں رہنا چھوڑا

آنکھوں میں اکثر کھو جاتا 

اس کی جانب تکنا چھوڑا

اس کی باتیں میری باتیں     

اپنی باتیں کرنا چھوڑا

جب  سے ٹُوٹے تیر میرے

تب سے میں نے سونا چھوڑا

دل جو توڑا اس نے ہنس کے 

پھر ہی میں نے رونا چھوڑا


رضا نقوی

No comments:

Post a Comment