Friday, 23 April 2021

چاروں طرف سے بند تھا پتھر کا آدمی

 چاروں طرف سے بند تھا پتھر کا آدمی

باہر کہاں سے جھانکتا اندر کا آدمی

کیسے ہو ختم نشہ تِری نسبتوں کا یار

جائے کہاں اب اُٹھ کے تِرے در کا آدمی

میرے تمام راز عدو جانتا ہے کیوں

کیا اس سے مل گیا ہے کوئی گھر کا آدمی

جیسے اسی کے پاس ہوں سب کارِ اختیار

اِترا رہا ہے خود پہ جو دم بھر کا آدمی

گرداب کر رہے تھے مرا ذکر بار بار

لہروں کو میں لگا تھا سمندر کا آدمی


آزاد حسین آزاد

No comments:

Post a Comment