چاروں طرف سے بند تھا پتھر کا آدمی
باہر کہاں سے جھانکتا اندر کا آدمی
کیسے ہو ختم نشہ تِری نسبتوں کا یار
جائے کہاں اب اُٹھ کے تِرے در کا آدمی
میرے تمام راز عدو جانتا ہے کیوں
کیا اس سے مل گیا ہے کوئی گھر کا آدمی
جیسے اسی کے پاس ہوں سب کارِ اختیار
اِترا رہا ہے خود پہ جو دم بھر کا آدمی
گرداب کر رہے تھے مرا ذکر بار بار
لہروں کو میں لگا تھا سمندر کا آدمی
آزاد حسین آزاد
No comments:
Post a Comment