یار کو اپنے روبرو کیجے
آئینہ بن کے گفتگو کیجے
دامن و دل ہیں تار تار اگر
پھر گریبان کیوں رفو کیجے
کھولیۓ عطر بیز زلفوں کو
جب ہے مخمل میں ٹاٹ کا پیوند
کیوں نہ زرتار سے رفو کیجے
چاہتیں بانٹیۓ جہاں تک ہو
روشنی ہے تو چار سو کیجے
خاک ہو جائیے کسی کے لیے
اور پھر خواہشِ نمو کیجے
کاٹ سکتے نہیں جو چادرِ شب
ردِ ظلمت ہی چار سو کیجے
عمر بھر کا ہے غم ملا واجدؔ
کب تلک دل لہو لہو کیجے
واجد امیر
No comments:
Post a Comment