تسلسل ٹوٹ جائے گا
نہ چھیڑو کھلتی کلیوں ہنستے پھولوں کو
ان اڑتی تتلیوں آوارہ بھونروں کو
تسلسل ٹوٹ جائے گا
فضا محو سماعت ہے
نگاہیں نیچی رکھو اور مجسم گوش بن جاؤ
افر جنبش لبوں کو دی
تسلسل ٹوٹ جائے گا
ہوا سے پتیاں سرگوشیوں میں محو ہیں
اور جھومتی شاخوں کے جھولوں میں
پرندوں کی چہک سے سارا ساحل
سرمدی احساس میں ڈوبا ہوا
سرشار و شاداں ہے
اگر کنکر بھی سطح آب پر مارا
تسلسل ٹوٹ جائے گا
افق میں ڈوبتے سورج کا منظر
اس بلندی سے ذرا دیکھو
اسی رنگین کنارے پر
شفق سونا لٹائے گی
یوں ہی تم بے حس و ساکت رہو
ایسے میں پلکیں بھی ذرا جھپکیں
تسلسل ٹوٹ جائے گا
وہ خوابیدہ ہے خوابیدہ ہی رہنے دو
نہ جانے خواب میں کن وادیوں کی سیر کرتی ہو
بلندی سے پھسلتے آبشاروں میں گم ہو
فلک آثار چوٹی پر کہیں محو ترنم ہو
اگر آواز دی تم نے
تسلسل ٹوٹ جائے گا
میں شاعر ہوں
مِری فکرِ رسا احساس کی اس سطح پر ہے
جس میں خوشبو رنگ بنتی ہے
صدا کو شکل ملتی ہے
تصور بول اٹھتا ہے
خموشی گنگناتی ہے
یہ وہ وقفہ ہے، ایسے میں
اگر داد سخن بھی دی
تسلسل ٹوٹ جائے گا
محسن بھوپالی
No comments:
Post a Comment