Wednesday, 4 January 2017

تسلسل ٹوٹ جائے گا

تسلسل ٹوٹ جائے گا

نہ چھیڑو کھلتی کلیوں ہنستے پھولوں کو
ان اڑتی تتلیوں آوارہ بھونروں کو
تسلسل ٹوٹ جائے گا

فضا محو سماعت ہے
حسیں ہونٹوں کو نغمہ ریز رہنے دو
نگاہیں نیچی رکھو اور مجسم گوش بن جاؤ
افر جنبش لبوں کو دی
تسلسل ٹوٹ جائے گا

ہوا سے پتیاں سرگوشیوں میں محو ہیں
اور جھومتی شاخوں کے جھولوں میں
پرندوں کی چہک سے سارا ساحل
سرمدی احساس میں ڈوبا ہوا
سرشار و شاداں ہے
اگر کنکر بھی سطح آب پر مارا
تسلسل ٹوٹ جائے گا

افق میں ڈوبتے سورج کا منظر
اس بلندی سے ذرا دیکھو
اسی رنگین کنارے پر
شفق سونا لٹائے گی
یوں ہی تم بے حس و ساکت رہو
ایسے میں پلکیں بھی ذرا جھپکیں
تسلسل ٹوٹ جائے گا

وہ خوابیدہ ہے خوابیدہ ہی رہنے دو
نہ جانے خواب میں کن وادیوں کی سیر کرتی ہو
بلندی سے پھسلتے آبشاروں میں گم ہو
فلک آثار چوٹی پر کہیں محو ترنم ہو
اگر آواز دی تم نے
تسلسل ٹوٹ جائے گا

میں شاعر ہوں
مِری فکرِ رسا احساس کی اس سطح پر ہے
جس میں خوشبو رنگ بنتی ہے
صدا کو شکل ملتی ہے
تصور بول اٹھتا ہے
خموشی گنگناتی ہے
یہ وہ وقفہ ہے، ایسے میں
اگر داد سخن بھی دی
تسلسل ٹوٹ جائے گا

محسن بھوپالی

No comments:

Post a Comment