دشت کی ایسی شان کہاں
دل جیسا ویران کہاں
رشتوں کی پہچان کہاں
اور تم سا نادان کہاں
بھر گیا گھر سب یادوں سے
جو کچھ ہوتا جاتا ہے
اس کا تھا امکان کہاں
ریت سی اڑتی پھرتی ہے
صحرا ہے دالان کہاں
بھوک کہاں پر مچلی تھی
بچھا ہے دسترخوان کہاں
وحشت ہر سو پھرتی ہے
گلیاں ہیں سنسان کہاں
حبس کہاں پر بوئیں گے
کاٹیں گے طوفان کہاں
ڈھونڈیں کس الماری میں
رکھ بیٹھے پہچان کہاں
جنگ کہاں پر ہارے تھے
دیتے ہیں تاوان کہاں
مٹی ہے جو مٹتی ہے
مٹتا ہے انسان کہاں
واجد امیر
No comments:
Post a Comment