Wednesday, 4 January 2017

دشت کی ایسی شان کہاں

دشت کی ایسی شان کہاں
دل جیسا ویران کہاں
رشتوں کی پہچان کہاں
اور تم سا نادان کہاں
بھر گیا گھر سب یادوں سے
رکھیں گے سامان کہاں
جو کچھ ہوتا جاتا ہے
اس کا تھا امکان کہاں
ریت سی اڑتی پھرتی ہے
صحرا ہے دالان کہاں
بھوک کہاں پر مچلی تھی
بچھا ہے دسترخوان کہاں
وحشت ہر سو پھرتی ہے
گلیاں ہیں سنسان کہاں
حبس کہاں پر بوئیں گے
کاٹیں گے طوفان کہاں
ڈھونڈیں کس الماری میں
رکھ بیٹھے پہچان کہاں
جنگ کہاں پر ہارے تھے
دیتے ہیں تاوان کہاں
مٹی ہے جو مٹتی ہے
مٹتا ہے انسان کہاں

واجد امیر

No comments:

Post a Comment