Wednesday, 4 January 2017

روز سن سن کے ان الفاظ کا ڈر بیٹھ گیا

روز سن سن کے ان الفاظ کا ڈر بیٹھ گیا
دل کسی طور سنبھالا تو جگر بیٹھ گیا
ہم بہت خوش تھے کہ بارش کے بھی دن بیت گئے
دھوپ دو روز پڑی ایسی کہ گھر بیٹھ گیا
اس پری وش کا بیاں پھر ہے زباں پر میری
راز داں آج مِرا جانے کدھر بیٹھ گیا
کر دیا سوچ نے ترتیب کو درہم برہم
یوں سمجھ لو کہ پرندے پہ شجر بیٹھ گیا
میرے اظہار سے اس کو تو بدلنا کیا تھا
اس کی خاموشی کا خود مجھ پہ اثر بیٹھ گیا

شجاع خاور

No comments:

Post a Comment