روز سن سن کے ان الفاظ کا ڈر بیٹھ گیا
دل کسی طور سنبھالا تو جگر بیٹھ گیا
ہم بہت خوش تھے کہ بارش کے بھی دن بیت گئے
دھوپ دو روز پڑی ایسی کہ گھر بیٹھ گیا
اس پری وش کا بیاں پھر ہے زباں پر میری
کر دیا سوچ نے ترتیب کو درہم برہم
یوں سمجھ لو کہ پرندے پہ شجر بیٹھ گیا
میرے اظہار سے اس کو تو بدلنا کیا تھا
اس کی خاموشی کا خود مجھ پہ اثر بیٹھ گیا
شجاع خاور
No comments:
Post a Comment