یہاں تو قافلے بھر کو اکیلا چھوڑ دیتے ہیں
سبھی چلتے ہوں جس پر ہم وہ رستہ چھوڑ دیتے ہیں
قلم میں زور جتنا ہے جدائی کی بدولت ہے
ملن کے بعد لکھنے والے لکھنا چھوڑ دیتے ہیں
زمیں کے مسئلوں کا حل اگر یوں ہی نکلتا ہے
جو زندہ ہوں اسے تو مار دیتے ہیں جہاں والے
جو مرنا چاہتا ہے اس کو زندہ چھوڑ دیتے ہیں
مکمل خود تو ہو جاتے ہیں سب کردار آخر میں
مگر کمبخت قاری کو ادھورا چھوڑ دیتے ہیں
وہ ننگِ آدمیت ہی سہی، پر یہ بتا اے دل
پرانے دوستوں کو اس قدر کیا چھوڑ دیتے ہیں
یہ دنیاداری اور عرفان کا دعویٰ شجاع خاور
میاں عرفان ہو جائے تو دنیا چھوڑ دیتے ہیں
شجاع خاور
No comments:
Post a Comment