Wednesday, 4 January 2017

یہاں تو قافلے بھر کو اکیلا چھوڑ دیتے ہیں

یہاں تو قافلے بھر کو اکیلا چھوڑ دیتے ہیں
سبھی چلتے ہوں جس پر ہم وہ رستہ چھوڑ دیتے ہیں
قلم میں زور جتنا ہے جدائی کی بدولت ہے
ملن کے بعد لکھنے والے لکھنا چھوڑ دیتے ہیں
زمیں کے مسئلوں کا حل اگر یوں ہی نکلتا ہے
تو لو جی آج سے ہم تم سے ملنا چھوڑ دیتے ہیں
جو زندہ ہوں اسے تو مار دیتے ہیں جہاں والے
جو مرنا چاہتا ہے اس کو زندہ چھوڑ دیتے ہیں
مکمل خود تو ہو جاتے ہیں سب کردار آخر میں
مگر کمبخت قاری کو ادھورا چھوڑ دیتے ہیں
وہ ننگِ آدمیت ہی سہی، پر یہ بتا اے دل
پرانے دوستوں کو اس قدر کیا چھوڑ دیتے ہیں
یہ دنیاداری اور عرفان کا دعویٰ شجاع خاور
میاں عرفان ہو جائے تو دنیا چھوڑ دیتے ہیں

شجاع خاور

No comments:

Post a Comment