کر لیا ہے خود سے کتنا دور اپنے آپ کو
ایک دن تو آئینے میں گھور اپنے آپ کو
ایک جلوے کے تصور سے ہوا ہے جب سے خاک
دل سمجھ بیٹھا ہے کوہِ طور اپنے آپ کو
ہم سے ایک اک شعر لے کر ہم کو خالی کر دیا
مسترد کل رات کر دی ساری دنیا یک قلم
اور یوں کہتے ہیں ہم مجبور اپنے آپ کو
آگ اتنی ہے کہ دنیا کو جلا دے یہ، مگر
پھونکتا ہے ذات کا تندور اپنے آپ کو
پہلے شاہِ وقت کر لے عالموں سے گفتگو
سامنے لائے گا پھر منصور اپنے آپ کو
ظلم کا موسم تھا اور تقریر آئی تھی مجھے
دو ہی دن میں کر لیا مشہور اپنے آپ کو
اب یہ غیروں کے تعصب کی شکایت کیوں شجاعؔ
کر چکے ہیں جبکہ نا منظور اپنے آپ کو
شجاع خاور
No comments:
Post a Comment