بے وقت کی خزاں ہے چمن کی بہار پر
سہمے ہوئے عوام ہیں اس انتشار پر
جب رہبرانِ قوم بھی خود ہوں دروغ گو
پھر کون اعتبار کرے اعتبار پر
غربت زدہ عوام کا شامل ہو جس میں خون
جس نے دیا ہے چهین بهی لے گا وہ ایک روز
مت اتنا زعم کیجیۓ اس اختیار پر
صفدرؔ بدل گیا ہے سیاست کا اب مزاج
لوگ اب ہنسی اڑانے لگے انکسار پر
صفدر ہمدانی
No comments:
Post a Comment