Thursday, 5 January 2017

اپنی آنکھوں میں ترا عکس دکھانا چاہوں

اپنی آنکھوں میں تِرا عکس دکھانا چاہوں
میں تجھے تیرے خیالات بتانا چاہوں
رنگ بکھریں تو خیالات بکھر جاتے ہیں
انگلیاں ٹوٹیں تو تصویر بنانا چاہوں
دھند میں لپٹے ہوئے پیڑ کا سایہ بن کر
تجھ سے تیری ہی ملاقات کرانا چاہوں
ناگنیں زہر لیے بیٹھی ہیں شریانوں میں
اور میں اپنا لہو آپ بہانا چاہوں
چاہتیں اور بھی ہوں گی مجھے انکار نہیں
ساتھ جب ہے تو تِرا ساتھ نبھانا چاہوں
چاند کی کرنوں کے بھالوں سے چٹانیں کھودوں
دھوپ کی لاش زمینوں میں اگانا چاہوں
کیسی خواہش نے مِرے جسم میں کروٹ لی ہے
آئینہ مٹی کے دانتوں سے چبانا چاہوں
ان نئے شہروں سے نفرت سی ہوئی ہے صفدؔر
میں وہی شخص وہی شہر پرانا چاہوں

صفدر ہمدانی

No comments:

Post a Comment