Thursday, 5 January 2017

خدا جانے دلوں کے درمیاں یہ کیسا پردہ ہے

خدا جانے دلوں کے درمیاں یہ کیسا پردا ہے
کہ جو بھی آشنا ہے ایک بے گانہ سا لگتا ہے
یہ میرے شوق کی ہے ابتدا یا انتہا، کیا ہے
کہ جو بھی بات لب پر آ گئی حرفِ تمنا ہے
نظر کی بات ہے ورنہ حجابوں میں رکھا کیا ہے
تمہارے منہ چھپانے پر بھی کیا کیا ہم نے دیکھا ہے
وفورِ ذوقِ نغمہ سے ملی منقار بلبل کو
مِرا حسنِ نظر میری ہی تخلیقِ تمنا ہے
جو کچھ ہم دیکھنا چاہیں وہی آئے نظر ہم کو
یہ دنیا تو ہماری آرزوؤں کا سراپا ہے
یونہی کہہ دی غزل ورنہ بقولِ حضرتِ غالب
“اثر فریادِ دل ہائے حزیں کا کس نے دیکھا ہے”
یہ آنسو ہی نہیں تنہا فسانہ درد مندی کا
تبسمؔ بھی تو آخر بے کسی کا ایک دکھڑا ہے

صوفی تبسم

No comments:

Post a Comment