خرد مندی جنونِ عشق کا حاصل نہ بن جائے
یہ طوفانِ رواں تھم کر کہیں ساحل نہ بن جائے
نظر کی بے زبانی داستانِ دل نہ بن جائے
یہ خاموشی مِری ہنگامۂ محفل نہ بن جائے
الجھ کر رہ نہ جائے کہکشاں ہی میں نظر میری
میں ہر دشوارئ انجام کو آساں سمجھتا ہوں
یہ آسانی مِری یا رب کہیں مشکل نہ بن جائے
صوفی تبسم
No comments:
Post a Comment