Thursday, 5 January 2017

خرد مندی جنون عشق کا حاصل نہ بن جائے

خرد مندی جنونِ عشق کا حاصل نہ بن جائے
یہ طوفانِ رواں تھم کر کہیں ساحل نہ بن جائے
نظر کی بے زبانی داستانِ دل نہ بن جائے
یہ خاموشی مِری ہنگامۂ محفل نہ بن جائے
الجھ کر رہ نہ جائے کہکشاں ہی میں نظر میری
نشانِ جادۂ منزل، کہیں منزل نہ بن جائے
میں ہر دشوارئ انجام کو آساں سمجھتا ہوں
یہ آسانی مِری یا رب کہیں مشکل نہ بن جائے

صوفی تبسم

No comments:

Post a Comment