عارفانہ کلام نعتیہ کلام
نعمتیں دیکھ رہی تھیں بڑی حیرانی سے
روزہ افطار کیا آپﷺ نے جب پانی سے
ہے کوئی اور زمانے میں دکھاؤ تو سہی
جو فقیری کو ملا سکتا ہو سلطانی سے
کیسے ان سخت مراحل سے وہ گزرے ہوں گے
جا کے اندازہ لگا دشت کی ویرانی سے
بیٹھ جاتا ہوں تِریؐ مدح سرائی کرنے
جب مِرا سامنا ہوتا ہے پریشانی سے
بادشاہوں کے مقدر بھی کہاں ایسے ہیں
جیسا منصب ملا سلمانؓ کو دربانی سے
داغ سب دھو دئیے اس نے مِری ناکامی کے
مجھے عزت جو ملی ان کی ثناخوانی سے
دسترس لوح و قلم تک تھی اگرچہ اس کی
زندگی جس نے گزاری نہیں آسانی سے
واجد امیر
No comments:
Post a Comment