Saturday, 7 January 2017

تو نے تلوار اٹھائی نہ لڑائی سے ہوا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

تُو نے تلوار اٹھائی، نہ لڑائی سے ہوا
فتح مکہ ہوا اور صلح صفائی سے ہوا
وہ جو تسخیر نہ ہوتا تھا دلوں کا لشکر
بعد از جنگ اسیروں کی رہائی سے ہوا
کب کوئی نعت تِری شان کے شایان لکھی
مطمئن کب میں تِری مدح سرائی سے ہوا
کتنا دشوار تھا دنیا سے گزر کر جانا
کتنا آسان تِری راہ نمائی سے ہوا
شہر آباد تِرے حسنِ تدبر سے ہوئے 
دشت شاداب تِری آبلہ پائی سے ہوا

واجد امیر

No comments:

Post a Comment