سروں پہ جس گھڑی گردِ زمانہ پڑتی ہے
سفید بالوں کی عزت بچانا پڑتی ہے
یہی تو ہوتا ہے عجلت میں گھر بنانے سے
کہیں کی اینٹ کہیں پر لگانا پڑتی ہے
ذرا قریب سے دیکھو زمین والوں کو
نہ صرف یہ کہ بناتے ہیں آب و گِل سے چراغ
ہمیں چراغ کی لو بھی بنانا پڑتی ہے
زیادہ رونقِ بازار جو رہیں، ان کی
نگاہ جس پہ پڑے تاجرانہ پڑتی ہے
کبھی نکلنا جو چاہیں زمیں کی گردش سے
تو صرف پاؤں کی ایڑی گھمانا پڑتی ہے
واجد امیر
No comments:
Post a Comment