Saturday, 7 January 2017

ہم اپنی انتہا تک آ گئے ہیں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

ہم اپنی انتہا تک آ گئے ہیں
درِ خیرالوریٰ تک آ گئے ہیں
انہیں مژدہ ہو فردوس بریں کا
جو ان کے نقشِ پا تک آ گئے ہیں
حضورؐ اب آپ سے ہم کیا چھپائیں
مسائل ابتلا تک آ گئے ہیں
معیّن جس کی خواہش پر ہے کعبہ
اسی قبلہ نما تک آ گئے ہیں
بلا کا حبس تھا جن کے گھروں میں
مدینے کی ہوا تک آ گئے ہیں
بہت بھٹکا کیے تاریکیوں میں
سو اب شمس الضحیٰ تک آ گئے ہیں
مدینے کا وہی رستہ ہے واجدؔ
جہاں سے ہم خدا تک آ گئے ہیں

واجد امیر

No comments:

Post a Comment