Saturday, 7 January 2017

جلترنگ مجھے وہ گیت بھاتا ہے

جلترنگ

مجھے وہ گیت بھاتا ہے
جو صرف اور صرف
تیرے نام سے منسوب ہو جاۓ
کہ جس میں صرف تیرا تذکرہ ہو
تیرا چرچا ہو

مجھے وہ رنگ بھاتا ہے
کہ جس کو خاص دن اور خاص موقعے پر
مِری جاں تم نے پہنا ہو
وہ منظر میری آنکھوں کو
بہت شاداب کرتے ہیں
کہ جن کو تم نے دیکھا ہو
مجھے وہ پھول بھاتے ہیں
کہ جو تیری وجہ سے
کھلکھلاتے، لہلہاتے، مسکراتے ہیں
تِرے ہونٹوں سے جو خوشبو چراتے ہیں
اگر تم مسکراؤ تو
زمانے مسکراتے ہیں
ستارے، چاند، آنکھیں
پھول، ساون، رنگ
خوشبو، دھڑکنیں دل کی
سبھی منظر خوشی سے جھومتے ہیں
گیت گاتے ہیں
مِرے الفاظ بھی شعروں میں ڈھل کر
گیت گاتے ہیں
مِری جاناں میں کیا لکھوں 
کہاں تک بولتا جاؤں 
تِری تعریف کرنے سے
مِرے الفاظ قاصر ہیں 

عبدالرحمان واصف

No comments:

Post a Comment