Wednesday, 11 January 2017

تو نے جس شہر تماشا سے گزارا ہے مجھے

تُو نے جس شہرِ تماشا سے گزارا ہے مجھے 
اس نے ہر بامِ تمسخر سے پکارا ہے مجھے
اب میں چاہوں بھی تو دنیا سے نہیں مل سکتا 
زندگی تُو نے بہت دور اتارا ہے مجھے
منفعت کون سی نفرت سے تمہیں ملتی ہے 
گر محبت میں خسارا ہی خسارا ہے مجھے
گر نہیں ہیں تِرے مہر و مہ و انجم میرے 
اک چراغِ تہِ داماں ہی ستارا ہے مجھے
کیا جنوں میں بھی کوئی پاؤں غلط پڑتا ہے  
دل نے کیوں عشق کی مسند سے اتارا ہے مجھے 
میرے بارے تو کوئی اور بتائے گا مجھے 
تم محبت ہو مِری، دھیان تمہارا ہے مجھے

واجد امیر

No comments:

Post a Comment