Friday, 13 January 2017

بیچتے کیا ہو میاں آن کے بازار کے بیچ

بیچتے کیا ہو میاں آن کے بازار کے بیچ
اور انا کاہے کو رکھ چھوڑی ہے بیوپار کے بیچ
اس گھڑی عدل کی زنجیر کہاں ہوتی ہے
جب کنیزوں کو چُنا جاتا ہے دیوار کے بیچ
شہر ہوتا ہے ستاروں کے لہو سے روشن
طشت میں سر بھی پڑے ہوتے ہیں دربار کے بیچ
کبھی اس راہ میں پھل پھول لگا کرتے تھے
اب لہو کاٹتے ہیں کابل و قندھار کے بیچ
کِزب کے واسطے موجود ہے دنیائے بہشت
سچ معلق ہے ابھی آتش و گلزار کے بیچ
راکھ بیٹھی تو پھر آگ روانہ ہو گی
جانے کب سے جو دہکتی رہی کہسار کے بیچ
شام اترتی ہے تو واجؔد میں یہی سوچتا ہوں
آج کا دن بھی گیا یادوں کے انبار کے بیچ

واجد امیر

No comments:

Post a Comment