بیچتے کیا ہو میاں آن کے بازار کے بیچ
اور انا کاہے کو رکھ چھوڑی ہے بیوپار کے بیچ
اس گھڑی عدل کی زنجیر کہاں ہوتی ہے
جب کنیزوں کو چُنا جاتا ہے دیوار کے بیچ
شہر ہوتا ہے ستاروں کے لہو سے روشن
کبھی اس راہ میں پھل پھول لگا کرتے تھے
اب لہو کاٹتے ہیں کابل و قندھار کے بیچ
کِزب کے واسطے موجود ہے دنیائے بہشت
سچ معلق ہے ابھی آتش و گلزار کے بیچ
راکھ بیٹھی تو پھر آگ روانہ ہو گی
جانے کب سے جو دہکتی رہی کہسار کے بیچ
شام اترتی ہے تو واجؔد میں یہی سوچتا ہوں
آج کا دن بھی گیا یادوں کے انبار کے بیچ
واجد امیر
No comments:
Post a Comment