ابھی آنکھوں میں حیرت ہے، بہت ہے
تماشے کی ضرورت ہے، بہت ہے
یہ گھر کا صحن ہے صحرا نہیں ہے
یہاں جتنی بھی وحشت ہے، بہت ہے
کوئی دیکھے تو ہیں مصروف کتنے
ہمارے پاس ہیں متروک سِکے
سو جس شۓ کی جو قیمت ہے، بہت ہے
تعاقب میں لگی ہیں کتنی صدیاں
یہ جو اک پل کی مہلت ہے، بہت ہے
واجد امیر
No comments:
Post a Comment