Friday, 13 January 2017

جس میں سورج کا طرفدار ہر اک سایہ ہے

جس میں سورج کا طرفدار ہر اک سایا ہے
میں نے اس شہر میں گھر موم کا بنوایا ہے
بد دعا راہگزروں کی نہ لگ جائے مجھے
اک شجر کاٹنے والا مِرا ہمسایا ہے
ڈوب جائے کسی دریا میں وہ بادل یا رب
جس نے برسوں مِرے صحراؤں کو ترسایا ہے
تُو مجھے لُوٹ کے مفلس نہ بنا اے دنیا
چند خوابوں کے سوا کیا مِرا سرمایا ہے
جا پلٹ جا غمِ دوراں نہیں فرصت مجھ کو
آج اک بھولنے والا مجھے یاد آیا ہے
دوستی ختم ہوئی اس کے حوالے سے قتیلؔ
وہ مِرا دوست جو قاتل مِرا کہلایا ہے

قتیل شفائی

No comments:

Post a Comment