جس میں سورج کا طرفدار ہر اک سایا ہے
میں نے اس شہر میں گھر موم کا بنوایا ہے
بد دعا راہگزروں کی نہ لگ جائے مجھے
اک شجر کاٹنے والا مِرا ہمسایا ہے
ڈوب جائے کسی دریا میں وہ بادل یا رب
تُو مجھے لُوٹ کے مفلس نہ بنا اے دنیا
چند خوابوں کے سوا کیا مِرا سرمایا ہے
جا پلٹ جا غمِ دوراں نہیں فرصت مجھ کو
آج اک بھولنے والا مجھے یاد آیا ہے
دوستی ختم ہوئی اس کے حوالے سے قتیلؔ
وہ مِرا دوست جو قاتل مِرا کہلایا ہے
قتیل شفائی
No comments:
Post a Comment