بے وفاؤں میں تو نام اس کا کہیں آتا نہیں
پھیر لے گا ہم سے وہ آنکھیں، یقیں آتا نہیں
اے ہواؤ! جاؤ اب تم ہی منا لاؤ اسے
میرے کہنے سے تو وہ ناز آفریں آتا نہیں
پیار اس سے کیجئے صدیوں کی عمریں مانگ کر
یہ سماعت کی ہے خامی یا صداؤں کا قصور
ہم نشینوں کو جوابِ ہم نشیں آتا نہیں
اے سکوں روٹھا ہے کیوں میرے ہی دل کے شہر سے
ہر کہیں جاتا ہے ظالم، تُو یہیں آتا نہیں
وہ مکاں اے کاش ساری عمر خالی ہی رہے
جس مکاں سے جا کے پھر کوئی مکیں آتا نہیں
بھوک لگتی ہے اسے خوراک بن جاتے ہیں لوگ
آسمانوں سے کبھی رزقِ زمیں آتا نہیں
تہمتیں ساری اسی کے دم سے تھیں ہم پر قتیلؔ
اب ہمارے پاس کوئی نکتہ چیں آتا نہیں
قتیل شفائی
No comments:
Post a Comment