Friday, 13 January 2017

وہ شخص برا تھا نہ وہ ہرجائی تھا

وہ شخص برا تھا نہ وہ ہرجائی تھا 
اس کو فقط اندیشہ رسوائی تھا
آتے ہوئے جس نے کبھی دستک بھی نہ دی 
وہ کون مِرا مونسِ تنہائی تھا
اس شوق کی پاداش میں آندھی آئی
میں تازہ ہواؤں کا تمنائی تھا
ایجاد ہوا آئینہ جس کے ہاتھوں
وہ سب سے بڑا دشمنِ دانائی تھا
اس شہر میں قاتل کے ستم سے پہلے
کب دار و رسن کا کوئی شیدائی تھا
زخموں کے وہاں پھول کھلائے ہم نے
ہر کوئی جہاں صرف تماشائی تھا
ہر دور نے تولا اسے کانٹوں میں قتیلؔ
جس شخص کو شوقِ چمن آرائی تھا

قتیل شفائی

No comments:

Post a Comment