وہ شخص برا تھا نہ وہ ہرجائی تھا
اس کو فقط اندیشہ رسوائی تھا
آتے ہوئے جس نے کبھی دستک بھی نہ دی
وہ کون مِرا مونسِ تنہائی تھا
اس شوق کی پاداش میں آندھی آئی
ایجاد ہوا آئینہ جس کے ہاتھوں
وہ سب سے بڑا دشمنِ دانائی تھا
اس شہر میں قاتل کے ستم سے پہلے
کب دار و رسن کا کوئی شیدائی تھا
زخموں کے وہاں پھول کھلائے ہم نے
ہر کوئی جہاں صرف تماشائی تھا
ہر دور نے تولا اسے کانٹوں میں قتیلؔ
جس شخص کو شوقِ چمن آرائی تھا
قتیل شفائی
No comments:
Post a Comment