سب راستے دشمن ہوئے اشجار مخالف
تو میرا ہوا ہے تو ہوئے یار مخالف
سنتے تھے کہ بس ہوتے ہیں اغیار مخالف
میرے تو نکل آئے ہیں سب یار مخالف
بنیاد رکھوں کوئی تو بنیاد ہے دشمن
ہاتھوں میں اٹھا لیتے ہیں اوزان کے پتھر
سنتے ہی نہیں ہیں میرے اشعار مخالف
میں عشق کو ہمدرد سمجھ بیٹھا تھا یارو
لگتے نہ تھے اس بحر کے آثار مخالف
دوں جان، تو قربانی سمجھتا نہیں کوئی
گر تھوڑا سنبھلتا ہوں تو گھر بار مخالف
اس شہر کو سچ سننے کی عادت ہی نہیں ہے
لگتے ہیں سبھی کو میرے افکار مخالف
جو بات بھی ہو دل میں چھپاتا نہیں فرحتؔ
ہر روز بنا لیتا ہوں دو چار مخالف
ہم لوگ غریبوں سے الجھتے نہیں فرحتؔ
ہم لوگ بنا لیتے ہیں سردار مخالف
فرحت عباس شاہ
No comments:
Post a Comment