Friday, 13 January 2017

سب راستے دشمن ہوئے اشجار مخالف

سب راستے دشمن ہوئے اشجار مخالف
تو میرا ہوا ہے تو ہوئے یار مخالف
سنتے تھے کہ بس ہوتے ہیں اغیار مخالف
میرے تو نکل آئے ہیں سب یار مخالف
بنیاد رکھوں کوئی تو بنیاد ہے دشمن
دیوار اٹھاتا ہوں تو دیوار مخالف
ہاتھوں میں اٹھا لیتے ہیں اوزان کے پتھر
سنتے ہی نہیں ہیں میرے اشعار مخالف
میں عشق کو ہمدرد سمجھ بیٹھا تھا یارو
لگتے نہ تھے اس بحر کے آثار مخالف
دوں جان، تو قربانی سمجھتا نہیں کوئی
گر تھوڑا سنبھلتا ہوں تو گھر بار مخالف
اس شہر کو سچ سننے کی عادت ہی نہیں ہے
لگتے ہیں سبھی کو میرے افکار مخالف
جو بات بھی ہو دل میں چھپاتا نہیں فرحتؔ
ہر روز بنا لیتا ہوں دو چار مخالف
ہم لوگ غریبوں سے الجھتے نہیں فرحتؔ
ہم لوگ بنا لیتے ہیں سردار مخالف

فرحت عباس شاہ

No comments:

Post a Comment