بوریا بستر باندھنے کا وقت آنے لگا ہے
شاید تختۂ عجز و نیاز ٹھکانے لگا ہے
چرخِ سخن سے کون سا تارا جھڑنے کو ہے
کس بد خبری کا جھونکا لرزانے لگا ہے
کم تولیں اور نرخ زیادہ لکھ کے تھمائیں
ملزم نے اتنی رشوت ٹھونسی ہے اس کو
تھانیدار اب ملزم سے کترانے لگا ہے
مجھ کو بِل میں گھسنے سے پہلے ہی اُچک لے
چوہا بلی جی کو یہ سمجھانے لگا ہے
نیولا داؤ دکھا کے، سانپ نوالہ کر کے
زیرِ حلق اتار کے کیا اِٹھلانے لگا ہے
ماجؔد گروی رکھ کے ہمارے آتے دنوں کو
ساہوکار ہمیں کیا کیا بہلانے لگا ہے
ماجد صدیقی
No comments:
Post a Comment