Wednesday, 7 September 2022

امتحاں اس میں ہوا سب سے جدا خیموں سے

 سلام


امتحاں اس میں ہوا سب سے جدا خیموں سے

ایک خیمہ جو بہت دور نہ تھا خیموں سے

دھوپ رستے میں نمی چھین لیا کرتی تھی

خشک تر ہو کے گزرتی تھی ہوا خیموں سے

جسم کٹ کر جو زمیں پر کوئی آگرتا تھا

انا للہ کی آتی تھی صدا خیموں سے

جنگ میداں میں ہوا کرتی ہےآنگن میں نہیں

اشقیا! جانے تمہیں بیر تھا کیا خیموں سے

راکھ بڑھتی تھی اسے جھٹ سے تسلی دینے

آگ روتی تھی لپٹ کر جو زرا خیموں سے

کوفہ و شام کے بازاروں سے درباروں تک

راستہ جو بھی گیا! ہو کے گیا خیموں سے

آخری قطرۂ خوں دشتِ بلا پر ٹپکا

آخری بار بہت شور اٹھا خیموں سے


واجد امیر

No comments:

Post a Comment