سلام
امتحاں اس میں ہوا سب سے جدا خیموں سے
ایک خیمہ جو بہت دور نہ تھا خیموں سے
دھوپ رستے میں نمی چھین لیا کرتی تھی
خشک تر ہو کے گزرتی تھی ہوا خیموں سے
جسم کٹ کر جو زمیں پر کوئی آگرتا تھا
انا للہ کی آتی تھی صدا خیموں سے
جنگ میداں میں ہوا کرتی ہےآنگن میں نہیں
اشقیا! جانے تمہیں بیر تھا کیا خیموں سے
راکھ بڑھتی تھی اسے جھٹ سے تسلی دینے
آگ روتی تھی لپٹ کر جو زرا خیموں سے
کوفہ و شام کے بازاروں سے درباروں تک
راستہ جو بھی گیا! ہو کے گیا خیموں سے
آخری قطرۂ خوں دشتِ بلا پر ٹپکا
آخری بار بہت شور اٹھا خیموں سے
واجد امیر
No comments:
Post a Comment