یہاں مکینوں سے خالی مکان رہتے ہیں
محبتیں نہیں رہتیں گمان رہتے ہیں
خدا کرے کہ سنے تُو زبان خاموشی
تِرے پڑوس میں کچھ بے زبان رہتے ہیں
نہ کیجے تکیہ بزرگوں کی ڈھلتی چھاؤں پر
کہاں سروں پہ سدا سائبان رہتے ہیں
یہی جہاں ہے ہمارا جہان گمشدگی
یہی نشان کہ بس بے نشان رہتے ہیں
محبتیں جس افق سے طلوع ہوتی ہیں
وہیں پہ مل کے زمیں آسمان رہتے ہیں
تِرے سلوک نے دھندلا دئیے سب افسانے
ہم اپنے سے بھی بہت بد گمان رہتے ہیں
ہر ایک شخص کو مجبور آہ! مت جانو
کہ شیشے بھی کہیں بن کر چٹان رہتے ہیں
آہ سنبھلی
No comments:
Post a Comment