Wednesday, 7 September 2022

یہاں مکینوں سے خالی مکان رہتے ہیں

 یہاں مکینوں سے خالی مکان رہتے ہیں

محبتیں نہیں رہتیں گمان رہتے ہیں

خدا کرے کہ سنے تُو زبان خاموشی

تِرے پڑوس میں کچھ بے زبان رہتے ہیں

نہ کیجے تکیہ بزرگوں کی ڈھلتی چھاؤں پر

کہاں سروں پہ سدا سائبان رہتے ہیں

یہی جہاں ہے ہمارا جہان گمشدگی

یہی نشان کہ بس بے نشان رہتے ہیں

محبتیں جس افق سے طلوع ہوتی ہیں

وہیں پہ مل کے زمیں آسمان رہتے ہیں

تِرے سلوک نے دھندلا دئیے سب افسانے

ہم اپنے سے بھی بہت بد گمان رہتے ہیں

ہر ایک شخص کو مجبور آہ! مت جانو

کہ شیشے بھی کہیں بن کر چٹان رہتے ہیں


آہ سنبھلی

No comments:

Post a Comment