کچھ اندیکھی گرہیں سی کھولتا ہے
میرے اندر کہیں کوئی بولتا ہے
کہیں کوئی آنکھ مجھ پر ٹِکی ہے
میری خوشیوں کو کوئی تولتا ہے
سنتا خامشی سے ہوں میں اس کو
گِرہیں چُپ کی جب وہ کھولتا ہے
گِرے گا بن کے موتی کب یہ آنسو
آنکھ میں سِیپ کی جو ڈولتا ہے
مِری آنکھوں میں جو منظر ہیں اُترے
کیوں ان کو دیکھ کر دل ہولتا ہے
دل لگی چاہتا ہے پھر سے کوئی؟
یہ دل پھر کیوں مجھے ٹٹولتا ہے
میرے دامن میں بھر جاتے ہیں آنسو
یہ موتی کون ہے جو رولتا ہے
نائلہ ریاض بٹ
No comments:
Post a Comment