Tuesday, 15 June 2021

کچھ ان دیکھی گرہیں سی کھولتا ہے

  کچھ اندیکھی گرہیں سی کھولتا ہے

میرے اندر کہیں کوئی بولتا ہے

کہیں کوئی آنکھ مجھ پر ٹِکی ہے

میری خوشیوں کو کوئی تولتا ہے

سنتا خامشی سے ہوں میں اس کو

گِرہیں چُپ کی جب وہ کھولتا ہے

گِرے گا بن کے موتی کب یہ آنسو

آنکھ میں سِیپ کی جو ڈولتا ہے

مِری آنکھوں میں جو منظر ہیں اُترے

کیوں ان کو دیکھ کر دل ہولتا ہے

دل لگی چاہتا ہے پھر سے کوئی؟

یہ دل پھر کیوں مجھے ٹٹولتا ہے

میرے دامن میں بھر جاتے ہیں آنسو

یہ موتی کون ہے جو رولتا ہے


نائلہ ریاض بٹ

No comments:

Post a Comment