Tuesday, 15 June 2021

بیچ صحرا میں اپنا گھر نکلا

بیچ صحرا میں اپنا گھر نکلا

کیسا سودا ہمارے سر نکلا

جب سے آباد اس کی چاہت ہے

دل سے دنیا کا سارا ڈر نکلا

وہ بھی رہنے لگا ہے آنکھوں میں

عین پانی میں اس کا گھر نکلا

اس کی خوشبو کو ڈھونڈنے یارو

میں ہواؤں کے دوش پر نکلا

جن کے ہونٹوں پہ قہقہے تھے بہت

ان کا دامن بھی تر بہ تر نکلا

جلتی دھوپوں سے تنگ تھا وہ بھی

چھاؤں لینے کو خود شجر نکلا

نام سنتے تھے تاج کا جوہر

وہ بھی یادوں کا اک کھنڈر نکلا


جوہر تماپوری

No comments:

Post a Comment