Thursday, 17 June 2021

محبت غم ہے عشق اک روگ ہے

 محبت


محبت غم ہے

عشق اک روگ ہے

یہ کج نگاہی اہلِ دنیا کی

تمہیں ذوقِ تصوف اور کچھ شاید کہے لیکن

مجھے باور کرو گی

خیر کچھ بھی ہو

تمہیں آج اک اچھوتے راز سے آگاہ کرتا ہوں

تمہارے شاعروں کے دل

یہ کیا کہتی ہو؟

دل

اے وائے نادانی

نہیں، یہ دل نہیں

ہاں، لوتھڑے ہیں گوشت کے، خوں کے

اور ان کے جسم 

غمگیں مقبرے ہیں ان کی روحوں کے

محبت نور ہے

اِک جاوِدانی نور ہے

اے سلمےٰ

کہ جس کے جلوۂ سوزاں سے ہے روحانیت تاباں

مسرت کھیلتی ہے شاد کامِ آرزو ہو کر

جمال و ناز و موسیقی کی رنگیں، دلستاں پریاں

صداقت، درد اور معصومیت کی دلنشیں حوریں

محبت کی حریمِ قُدس میں اک رقص کرتی ہیں

حسیں فطرت کی زیبائی میں سو سو رنگ بھرتی ہیں

نوائے وقت کی اک راگنی منظوم ہوتی ہے

جہاں میں زندگی ہی زندگی معلوم ہوتی ہے


تصدق حسین خالد

No comments:

Post a Comment