Thursday, 17 June 2021

پورا ہو چاند صبح کا تارا تمام ہو

 پورا ہو چاند صبح کا تارا تمام ہو

گزریں جو سات دن تو یہ دنیا تمام ہو

پھر ہم بھی ڈھونڈ لائیں گے اپنی طرح کا پھول

پہلے ہمارے باغ کا نقشہ تمام ہو

کب تک میں پھینکتی رہوں شکلیں الاؤ میں

ٹوٹے یہ خواب اور یہ قصہ تمام ہو

میں آگہی میں دور نکل آئی اب کی بار

یہ سوچ کر چلی تھی کہ رستہ تمام ہو

کردار اور کہانی تو رکتے نہیں کہیں

پردہ گرائیے کہ تماشہ تمام ہو

ماتھے کو چوم اور یہ طبیعت بہال کر

آنکھوں میں آ کے بیٹھ یہ گریہ تمام ہو


تجدید قیصر

No comments:

Post a Comment