ٹریک پر خون
خدائے برتر
زمین تیری
ہمارے ہی خوں سے تر بہ تر ہے
یہ مانا تُو نے زمیں بنائی
تُو اس کا خالق، تُو اس کا مالک
مگر تِرے بعد خلق کرنے کا سارا ذمہ ہمارے اوپر
یہ آسماں زاد بلڈنگیں ہیں
یہ مل، یہ کھیت اور کارخانے
حلق سے نیچے اترنے والے سبھی نوالے
ستر چھپانے کا قیمتی سا لباس بھی تو
غرض کہ ہر شے ہماری محنت سے اور پسینے سے
تر بہ تر ہو کے ہی بنی ہے
مگر ہمارا لہو ہے ارزاں
کچھ اتنا ارزاں ہمارے مالک
کہ بے گھروں نے اگر کہیں پر
ذرا بھی آنکھیں جھپکنی چاہیں
تو ان کی گردن سے ریل گاڑی قیامتوں کو اٹھائے گزری
ہمارا لاشہ ٹریک پر بے کفن پڑا ہے ہمارے مولیٰ
یہ تیرے بندے
یہ مقتدر لوگ
اپنے مطلب سے جی رہے ہیں
لہو غریبوں کا پی رہے ہیں
انہیں ابھی بھی پتہ نہیں ہے
کہ ان کی عشرت ساز و سامان
سب ہمیں نے بنا رکھے ہیں
انہیں خبر بھی اگر ہوئی تو
بھلا انہیں اس سے کیا غرض ہے
مگر اے مالک، ہمارے مالک
ہمیں تو، پیدا کیا ہے تُو نے
ہمارا خالق ہے تُو الٰہا
اسی طرح سے تِری بنائی ہوئی یہ مخلوق رائیگاں ہو
تو تجھ کو تکلیف ہوتی ہو گی
تو کیوں نہیں کُن کا اذن کر کے
تُو ان رذیلوں کو غرق کرتا
رحیم ہے تو، مگر خدایا
تُو منتقم بھی تو ہے نا آخر
بہت سی قوموں کو تُو نے ان کی
تعدیوں پر ڈبو دیا ہے
یہ قوم حد سے گزر چکی ہے
پکڑ لے مالک، انہیں پکڑ لے
تُو اپنی تخلیق کو بچا لے
تُو اپنے بندوں کی لاج رکھ لے
خدائے برتر
دانش اثری
No comments:
Post a Comment