Tuesday, 8 March 2022

دست قاتل میں حنا رنگ لہو کس کا ہے

 دستِ قاتل میں حنا رنگ لہو کس کا ہے

ٹوٹ کر بکھرا ہوا جام و سبو کس کا ہے

کس کی چیخیں مِری راتوں میں بھٹک جاتی ہیں

پوچھ کر دیکھ ذرا، نعرۂ ہُو کس کا ہے

اب عبادات بھی بندوں کی ہوا کرتی ہیں

کون کرتا ہے وضو، ظرفِ وضو کس کا ہے

جان جس کی ہے وہ لے لے گا، پریشاں کیوں ہوں

یہ جہاں کس کا ہے، میں کس کا ہوں، تو کس کا ہے

تُو مِرا یار ہے، اغیار کا بھی یار ہے تُو

سب سے یارانہ ہے تو پھر تُو عدو کس کا ہے

ایک لیلیٰ تھی بنو سعد کی برسوں پہلے

آج کے دور میں یہ بادیہ خو کس کا ہے

دانش اثری تِرے چہرے پہ خراشیں ہیں بہت

ہم تو حیراں تھے کہ یہ آئینہ رو کس کا ہے


دانش اثری

No comments:

Post a Comment