نقوشِ جاں
میری زندگی کی کتاب پر
ہیں سجے ہوئے جو نقوشِ جاں
سب ہی میرے دل کا قرار ہیں
دل و جان ان پہ نثار ہیں
میرے راستوں کی خبر ہیں یہ
میری زندگی کا ثمر ہیں یہ
کبھی بےخودی، کبھی نغمگی
کبھی روشنی، کبھی تازگی
کبھی مہرباں، کبھی بدگماں
کبھی تتلیوں کے ہیں رنگ یہ
کبھی بادلوں کے ہیں سنگ یہ
کبھی بلبلوں کی صداؤں میں
کبھی مشکریز ہواؤں میں
کبھی بارشیں، کبھی تابشیں
کبھی سر بہ خم، کبھی نوک دم
میری رات بھر کی تھکن ہیں یہ
میری حسرتوں کی چبھن ہیں یہ
میرا سوز بھی، میرا ساز بھی
میری الجھنوں کا ہیں راز بھی
میری خواہشوں کا ایاغ ہیں
میری بے کلی کا سراغ ہیں
میرے داور!ا، میرے کبریا
میری تجھ سے بس ہے یہی دعا
مجھے کوئی ایسی نوید دے
جو یقیں یہ دل میں کشید دے
کہ نقوش سب ہیں یہ جاوداں
کہ نقوش سب ہیں یہ جاوداں
ثریا حیا
No comments:
Post a Comment