Monday, 7 March 2022

لا محالہ وحشتیں ہیں خوف ہے پر ہے تو ہے

 لا محالہ وحشتیں ہیں خوف ہے پر ہے تو ہے

ایک صحرا عشق میں مجھ کو میسر ہے تو ہے

بے گھری کی یار میرے مختلف اقسام ہیں 

تم کو لگتا ہے کہ میرا گھر اگر گھر ہے تو ہے

کون ہے اس کی نظر میں بحث یہ بنتی نہیں 

جو بھی ہے اچھا برا مجھ سے وہ بہتر ہے تو ہے

آپ کے آنے نہ آنے سے نہیں مطلب کوئی

مجھ کو اپنے خواب کی تعبیر کا ڈر ہے تو ہے

فرق ہے کچھ آپ کی اور میری سوچوں میں جناب

آپ کا اور میرا قد بالکل برابر ہے تو ہے

سانس  چلتی ہے کہ تیری یاد کا یہ شور ہے 

کھلبلی سی اک مسلسل میرے اندر ہے تو ہے

دیکھتے ہیں کون منزل اس جہاں میں پاۓ گا

ہر کسی کا اپنا کعبہ اپنا رہبر ہے تو ہے

ہو  بھی سکتا ہے تمہارا نام لکھا ہو کہیں

میرے سینے میں وہاں پر ایک پتھر ہے تو ہے


عاطف شبیر

No comments:

Post a Comment