لا محالہ وحشتیں ہیں خوف ہے پر ہے تو ہے
ایک صحرا عشق میں مجھ کو میسر ہے تو ہے
بے گھری کی یار میرے مختلف اقسام ہیں
تم کو لگتا ہے کہ میرا گھر اگر گھر ہے تو ہے
کون ہے اس کی نظر میں بحث یہ بنتی نہیں
جو بھی ہے اچھا برا مجھ سے وہ بہتر ہے تو ہے
آپ کے آنے نہ آنے سے نہیں مطلب کوئی
مجھ کو اپنے خواب کی تعبیر کا ڈر ہے تو ہے
فرق ہے کچھ آپ کی اور میری سوچوں میں جناب
آپ کا اور میرا قد بالکل برابر ہے تو ہے
سانس چلتی ہے کہ تیری یاد کا یہ شور ہے
کھلبلی سی اک مسلسل میرے اندر ہے تو ہے
دیکھتے ہیں کون منزل اس جہاں میں پاۓ گا
ہر کسی کا اپنا کعبہ اپنا رہبر ہے تو ہے
ہو بھی سکتا ہے تمہارا نام لکھا ہو کہیں
میرے سینے میں وہاں پر ایک پتھر ہے تو ہے
عاطف شبیر
No comments:
Post a Comment