جس نے دیکھی ہے شبِ تیرہ، سحر بھی دیکھے
تا دمِ صبح وہ اشکوں کا اثر بھی دیکھے
تم نے تو خار ہی دیکھے ہیں سرِ شاخِ شجر
ہم نے سوکھی ہوئی شاخوں پہ ثمر بھی دیکھے
بیچتے پھرتے ہیں بازار میں یہ جنسِ ہنر
خود فروشوں میں کئی اہلِ ہنر بھی دیکھے
پا بہ زنجیر چلا جاتا ہے سُوئے منزل
رہروِ عشق ذرا رختِ سفر بھی دیکھے
یوں نہیں ہے کہ تپش ضبطِ تمنّا ٹھہری
لبِ سوزندہ مِرا سوزِ جگر بھی دیکھے
کُوئے جاناں کی تمنا تو بجا ہے لیکن
سر کشیدہ سے کہو کُوئے دگر بھی دیکھے
اس کی مرضی ہے جسے دیکھے نہ دیکھے لیکن
جعفری! اتنی گزارش ہے اِدھر بھی دیکھے
مقصود جعفری
No comments:
Post a Comment