جنسِ دل لے کر بھرے بازار تک پہنچا نہیں
ایک تک پہنچا ہوں میں، دو چار تک پہنچا نہیں
میرے پہلو سے گریزاں ہے، وہ میرا خوش بدن
اک ہرن ہے جو ابھی تاتار تک پہنچا نہیں
دیکھنے میں کچھ نہیں ہے، وقت کی یہ آبجو
کوئی لیکن اس ندی کے پار تک پہنچا نہیں
کاغذوں پر ہم لکیریں کھینچتے ہی رہ گئے
سلسلۂ حرفِ ابد آثار تک پہنچا نہیں
اس کو دشتِ زندگی میں کوئی منزل کب ملی
جو غزالِ وقت کی رفتار تک پہنچا نہیں
تیرگی کی جونک نے سب پی لیا میرا لہو
کوئی سورج، میرے زخمِ تار تک پہنچا نہیں
یار! اس مفتوح لڑکی میں بلا کا حُسن تھا
میں ہی بزدل تھا جو دل کی ہار تک پہنچا نہیں
شاعری کو یہ شرف مجھ سے ملا، یاور عظیم
میں غزل لے کر کبھی دربار تک پہنچا نہیں
یاور عظیم
No comments:
Post a Comment