Monday, 14 February 2022

ارے پگلی تجھے مجھ سے محبت تھی

 تعلق


ارے پگلی

تجھے مجھ سے محبت تھی

تو پھر مجھ سے کہا ہوتا

تِرا یہ رات بھر جگنا

یونہی بے چین سی رہنا

مگر سب کچھ چھپا لینا

کبھی جانا جو سکھیوں میں

منافق بن کے ہنس لینا

کسی سے یوں بھی کہہ دینا

کہ دانش مجھ پہ عاشق ہے

بہت ہی چاہتا ہے وہ

مگر میں کیا کروں ہمدم

کہ میں مجبور سی لڑکی

زمانے کے رواجوں سے بندھی محبوس بیٹھی ہوں

میں کچھ بھی کر نہیں سکتی

اگر وہ مجھ کو چاہے ہے تو پھر اس پر یہ لازم تھا

کہ مجھ کو جیت لیتا آ کے میداں میں مقابل سے

وہ مجھ کو کھینچ لیتا شوق سے پہلوئے اعداء سے

زمانے کے رواجوں سے کبھی مجھ کو چرا لیتا

یا میرے ذمہ داروں سے وہ مجھ کو مانگ ہی لیتا

مگر وہ کچھ نہیں کہتا

خفا سا مجھ سے رہتا ہے

تمہاری یہ کہانی کل سنائی ایک لڑکی نے

تو میرے دل میں بھی اک شوق کی آتش ہوئی پیدا

میں اس سے قبل تجھ کو جانتا تک بھی نہ تھا جاناں

مگر اک شوق تھا کہ کون ہے جو یوں بھی چاہے ہے

کہ عاشق خود ہے لیکن مجھ کو وہ عاشق بتائے ہے

سو کچھ لمحوں کی خاطر میں گلی میں تیری در آیا

تجھے دیکھا تجھے جانا تو میں نے تجھ کو پہچانا

یہ اچھی بات ہے کہ شرم سے تو کچھ نہ کہہ پائی

مگر جاناں ذرا سا اک اشارہ کر دیا ہوتا

بھرم میں تیرا رکھ لیتا

مگر یہ کیا کہ تُو نے مجھ کو مجنوں نام کر ڈالا

مجھے محبوب کر کے ہائے کیوں بدنام کر ڈالا

زمانہ مجھ سے پوچھے ہے کہ کیوں اس سے خفا ہو تم

بتا، میں کیا بتاؤں دوستوں کو مسئلہ کیا ہے؟

مجھے بھی تو محبت کا بھرم رکھنا ہے نا پگلی

میں کیسے کہہ دوں لوگوں سے کہ تُو ہی مجھ پہ عاشق ہے

مگر سن، جب تُو اپنا ضبط کھو بیٹھے کبھی رو کر

تو موبائل اٹھا کر ایک میسیج مجھ کو کر دینا

میں تجھ کو تھام بھی لوں گا

تجھے لٹنے نہیں دوں گا

کہ تُو میرے لیے اک محترم محبوب ہستی ہے

مگر یہ عشق کا سودا اور ایسے عشق کا سودا

میں ہرگز کر نہیں سکتا

مجھے جب تک تِری چاہت کا کچھ احساس ہو ہی نا

تو میں کس طرح سے تجھ سے کوئی رشتہ رکھوں پگلی

غرورِ حسن کو تج دے

تو پھر دانش بھی تیرا ہے

یہ لفظ و لوح تیرے ہیں

زمانہ بھی محبت بھی


دانش اثری

No comments:

Post a Comment