ستانے والے تو ان کو ستائے جاتے ہیں
یہ لوگ زخم پہ کیوں زخم کھائے جاتے ہیں
عجیب رسم یہ دیکھی یہاں کے رِندوں میں
کوئی پیۓ نہ پیۓ،۔ یہ پلائے جاتے ہیں
تِرے محبوں میں ہر اک کو سر بکف دیکھا
خوشی سے آ کے سروں کو کٹائے جاتے ہیں
لبوں پہ مُہرِ خموشی لگا تو دی تُو نے
سوال پھر بھی سرِ بزم اٹھائے جاتے ہیں
عجب طلسم کدہ ہے یہ تیرا شہر جہاں
چراغ جلنے سے پہلے بجھائے جاتے ہیں
وہ اپنی ضد پہ اڑے ہیں کہاں وہ مانیں گے
منانے والے اگرچہ منائے جاتے ہیں
اے کاش میرے مقدر میں بھی کبھی ہوتے
جو پھول زلف میں تیری سجائے جاتے ہیں
خدا تو ایک ہے لیکن یہاں خدا کی قسم
بتانِ زر سے خدا بھی بنائے جاتے ہیں
بچاؤں خانۂ دل کو میں جعفری کیسے
نظر سے بجلیاں مجھ پر گرائے جاتے ہیں
مقصود جعفری
No comments:
Post a Comment