Thursday, 11 November 2021

دکھ پرایا ہو یا اپنا نہیں دیکھا جاتا

 دکھ پرایا ہو یا اپنا نہیں دیکھا جاتا

رونے والا کوئی چہرہ نہیں دیکھا جاتا

سوچنا پڑتا ہے سو بار مگر جب ہو جائے

پھر محبت میں خسارہ نہیں دیکھا جاتا

میں تو فرقت میں کسی وقت بھی مر سکتی ہوں

خود کو اب اور اکیلا نہیں دیکھا جاتا

کر گیا آنکھیں سمندر جو کہا کرتا تھا

ایک آنسو بھی تمہارا نہیں دیکھا جاتا

میں تِرے ساتھ گزرتی تھی جہاں سے روز

اپنی آنکھوں سے وہ رستہ نہیں دیکھا جاتا

توڑ ڈالوں گی کسی روز کھلونے سارے

مجھ سے ہر روز تماشا نہیں دیکھا جاتا

جب سے تمثیلہ مجھے چھوڑ گیا ہے کوئی

چاند کے ساتھ ستارہ نہیں دیکھا جاتا


تمثیلہ لطیف

No comments:

Post a Comment