دکھ پرایا ہو یا اپنا نہیں دیکھا جاتا
رونے والا کوئی چہرہ نہیں دیکھا جاتا
سوچنا پڑتا ہے سو بار مگر جب ہو جائے
پھر محبت میں خسارہ نہیں دیکھا جاتا
میں تو فرقت میں کسی وقت بھی مر سکتی ہوں
خود کو اب اور اکیلا نہیں دیکھا جاتا
کر گیا آنکھیں سمندر جو کہا کرتا تھا
ایک آنسو بھی تمہارا نہیں دیکھا جاتا
میں تِرے ساتھ گزرتی تھی جہاں سے روز
اپنی آنکھوں سے وہ رستہ نہیں دیکھا جاتا
توڑ ڈالوں گی کسی روز کھلونے سارے
مجھ سے ہر روز تماشا نہیں دیکھا جاتا
جب سے تمثیلہ مجھے چھوڑ گیا ہے کوئی
چاند کے ساتھ ستارہ نہیں دیکھا جاتا
تمثیلہ لطیف
No comments:
Post a Comment