Thursday, 11 November 2021

پھولوں میں ہو گلاب ہمارا کہیں جسے

 پھولوں میں ہو گلاب ہمارا کہیں جسے

بن جاؤ ایسی ذات، سہارا کہیں جسے

دنیا کی تلخ بات پہ ظاہر نہ ہو ملال

کہہ جاؤ ایسی بات دوبارہ کہیں جسے

سب چھوڑ چھاڑ دیکھ تماشا الگ ہوئے

“اک رہ گیا ہوں میں کہ تمہارا کہیں جسے”

بن تیرے کیسے آہ گزارے ہیں روز و شب

ایسی ہے زندگی کہ گزارہ کہیں جسے

میرے خیال و خواب میں صورت تری مدام

دیدار تیرا خوب نظارہ کہیں جسے

رخِ آفتاب، جانِ جاں عامر کی زندگی

روشن ہے ایسے آنکھ ، ستارہ کہیں جسے


عامر حسنی

No comments:

Post a Comment