Thursday, 11 November 2021

حسن کی جتنی بڑھیں رعنائیاں

 حسن کی جتنی بڑھیں رعنائیاں

عشق کے سر ہو گئیں رسوائیاں

اس نگاہِ ناز کا عالم نہ پوچھ

چھو گئی جو قلب کی گہرائیاں

وہ حریمِ ناز میں بے چین ہیں

یاد آتی ہیں مِری تنہائیاں

ان حسیں آنکھوں میں آنسو آ گئے

آہ میرے عشق کی رسوائیاں

محفل دنیا کو ٹھکرا دوں مگر

جلوہ فرما ہیں تِری رعنائیاں

حسن کے دامن پہ دھبہ آ گیا

دور جا پہنچیں مِری رسوائیاں

میرے قدموں میں ہے عیش جاوداں

تیرے غم کی ہیں کرم فرمائیاں

عشق کی فطرت ہے عارف بے بسی

چل نہیں سکتیں تِری خود آرائیاں


عثمان عارف

No comments:

Post a Comment