یہ جو مجھ میں عذاب ہے پیارے
اس کی چپ کا جواب ہے پیارے
آس اب آسماں سے رکھی ہے
چھت کا موسم خراب ہے پیارے
پیار اگر ہے تو اس کی حد پانا
سب سے مشکل حساب ہے پیارے
کٹ چکی ہیں تمام زنجیریں
پھر بھی خانہ خراب ہے پیارے
کون تیرا ہے کس کا ہے تو بھی
ایسا کوئی حساب ہے پیارے
دل میں چھپ کر بھی خوشبوئیں دے گی
ہر تمنا گلاب ہے پیارے
نونیت شرما
No comments:
Post a Comment