Thursday, 11 November 2021

یہ جو مجھ میں عذاب ہے پیارے

 یہ جو مجھ میں عذاب ہے پیارے

اس کی چپ کا جواب ہے پیارے

آس اب آسماں سے رکھی ہے

چھت کا موسم خراب ہے پیارے

پیار اگر ہے تو اس کی حد پانا

سب سے مشکل حساب ہے پیارے

کٹ چکی ہیں تمام زنجیریں

پھر بھی خانہ خراب ہے پیارے

کون تیرا ہے کس کا ہے تو بھی

ایسا کوئی حساب ہے پیارے

دل میں چھپ کر بھی خوشبوئیں دے گی

ہر تمنا گلاب ہے پیارے


نونیت شرما

No comments:

Post a Comment