Wednesday, 10 November 2021

دل میں ہر درد کو جگہ دی ہے

 دل میں ہر درد کو جگہ دی ہے

اس محبت نے کیا سزا دی ہے

جب بھی بجھنے لگے غموں کے چراغ

اپنے دامن سے پھر ہوا دی ہے

تجھ کو ڈھونڈا گلی گلی میں نے

بستی بستی تجھے صدا دی ہے

تجھ کو احساس تک نہیں آیا

دل کی نازک کلی جلا دی ہے

آنکھ کے راستوں سے ہم نے دوست

تیری ہر آرزو بہا دی ہے

سخت جاں کس قدر ہے تمثیلہ

زخم کھا کر بھی مسکرا دی ہے


تمثیلہ لطیف

No comments:

Post a Comment