دل میں ہر درد کو جگہ دی ہے
اس محبت نے کیا سزا دی ہے
جب بھی بجھنے لگے غموں کے چراغ
اپنے دامن سے پھر ہوا دی ہے
تجھ کو ڈھونڈا گلی گلی میں نے
بستی بستی تجھے صدا دی ہے
تجھ کو احساس تک نہیں آیا
دل کی نازک کلی جلا دی ہے
آنکھ کے راستوں سے ہم نے دوست
تیری ہر آرزو بہا دی ہے
سخت جاں کس قدر ہے تمثیلہ
زخم کھا کر بھی مسکرا دی ہے
تمثیلہ لطیف
No comments:
Post a Comment