Friday, 5 November 2021

روشنی دل میں وہ کہاں ہے اب

 روشنی دل میں وہ کہاں ہے اب

آرزوؤں کا بس دھواں ہے اب

دل کے آنگن میں تیری یادوں کا

ایک ہلکا سا گماں ہے اب

بدگماں تھی کبھی زمیں مجھ سے

میرا دشمن یہ آسماں ہے اب

منزلوں کا پتہ تھا جس پہ رقم

زد پہ آندھی کی وہ نشاں ہے اب

یاد آتے تو ہو مگر ہمدم

پہلی شدت سی وہ کہاں ہے اب

دیکھ اس کے بغیر تمثیلہ زندگی

زندگی اپنی رائیگاں ہے اب


تمثیلہ لطیف

No comments:

Post a Comment