روشنی دل میں وہ کہاں ہے اب
آرزوؤں کا بس دھواں ہے اب
دل کے آنگن میں تیری یادوں کا
ایک ہلکا سا گماں ہے اب
بدگماں تھی کبھی زمیں مجھ سے
میرا دشمن یہ آسماں ہے اب
منزلوں کا پتہ تھا جس پہ رقم
زد پہ آندھی کی وہ نشاں ہے اب
یاد آتے تو ہو مگر ہمدم
پہلی شدت سی وہ کہاں ہے اب
دیکھ اس کے بغیر تمثیلہ زندگی
زندگی اپنی رائیگاں ہے اب
تمثیلہ لطیف
No comments:
Post a Comment