Tuesday, 2 November 2021

اسے اتنا ہی سمجھاؤ محبت مر نہیں سکتی

 اسے اتنا ہی سمجھاؤ محبت مر نہیں سکتی

اسے واپس بلا لاؤ، محبت مر نہیں سکتی

یہی اپنا عقیدہ ہے، یہی ہے تجربہ اپنا

کسی کو بھول بھی جاؤ محبت مر نہیں سکتی

ہماری ذات سے نفرت ہے اس کی عادت لیکن

ہمیں جتنا بھی تڑپاؤ، محبت مر نہیں سکتی

ہمیں خود غرض دنیا سے بس اتنا ہی کہنا ہے

چلو جتنے ستم ڈھاؤ، محبت مر نہیں سکتی

ہمیں یوں چھوڑ کر اب بھی اگر پچھتا رہے ہو

ارے پاگل پلٹ آؤ، محبت مر نہیں سکتی

بڑے اونچے گھرانے سے تعلق ہے تو پھر سن لو

بس اپنے دل کو بہلاؤ، محبت مر نہیں سکتی

جو دل پر زخم ہیں ان کو ذرا سا اور ہونے دو

نمک زخموں پہ لگواؤ، محبت مر نہیں سکتی

اسے کہنا کہ تمثیلہ تمہیں کب بھول سکتی ہے

اسے کہنا؛ نہ تڑپاؤ محبت مر نہیں سکتی


تمثیلہ لطیف

No comments:

Post a Comment