Wednesday, 3 November 2021

وقت مجھ کو کہاں لے آیا

 وقت مجھ کو کہاں لے آیا

مجھ سے باغی ہوا میرا سایا

کوئی ایسا نقیب آئے جو

چھین لے مجھ سے سارا سرمایا

تیری یادوں نے پھر کروٹ لی

میرا دل آج پھر گھبرایا

غم تو ہے بھری بہاروں میں 

آرزوؤں کا پھول مرجھایا

تجھ کو کھو کر نہ مسکرائی کبھی

میں نے آنچل کبھی نہ لہرآیا

رنج وغم کے بغیر تمثیلہ

میرے حصے میں کچھ نہ آیا


تمثیلہ لطیف

No comments:

Post a Comment