Sunday, 25 April 2021

صنف اسم

 صنفِ اِسم


عادتیں ہی ایسی ہیں

اب اُسے کہیں کیسے

لب پہ ہر گھڑی، ہر پل

یاد، رنج، فریادیں

ہم اُداس نا بھی ہوں

شام جب بھی آتی ہے

اس کی یاد کے آگے

ہار مان جاتے ہیں


عالیہ شاہ

No comments:

Post a Comment