ہم تو ہیں حسرتِ دیدار کے مارے ہوئے لوگ
یعنی اک نرگسِ بیمار کے مارے ہوئے لوگ
جل گئے دھوپ میں جو ان کا شمار ایک طرف
کم نہیں سایۂ دیوار کے مارے ہوئے لوگ
تُو نے اے وقت پلٹ کر بھی کبھی دیکھا ہے
کیسے ہیں سب تِری رفتار کے مارے ہوئے لوگ
دیکھتے رہتے ہیں خود اپنا تماشا دن رات
ہم ہیں خود اپنے ہی کردار کے مارے ہوئے لوگ
روز ہی خلق خدا مرتی ہے، یا دوبارہ
زندہ ہو جاتے ہیں اخبار کے مارے ہوئے لوگ
تیری دہلیز پہ اقرار کی امید لیے
پھر کھڑے ہیں تِرے انکار کے مارے ہوئے لوگ
اطہر ضیا
No comments:
Post a Comment