Sunday, 25 April 2021

شب وصال برابر چراغ جلتا ہے

 شبِ وصال برابر چراغ جلتا ہے

کہے بغیر مکرر چراغ جلتا ہے

تجھے یہ کون حرارت ہے میرے چاند نما

تِرے جمال کو چھو کر چراغ جلتا ہے

بڑھا کے ہاتھ جلا دے اسے میرے سائیں

کہ تیرے ہاتھ سے بہتر چراغ جلتا ہے

گلی گلی میں ہیں روشن سماعتوں کے دئیے

کوئی عظیم سخن ور چراغ جلتا ہے

فضائیں گونج اٹھیں بُو علی کے نعرے سے

دھمال ڈال قلندر چراغ جلتا ہے

نجانے کون وظیفے میں ہے دل مجذوب

ہزار رنگ بدل کر چراغ جلتا ہے

دکھائی دے ہے مجھے شب برات کا منظر

چراغ ہاتھ میں لے کر چراغ جلتا ہے

یونہی تو میں نہیں ناصر علی ہوا روشن

میرے وجود کے اندر چراغ جلتا ہے


ناصر علی

No comments:

Post a Comment